ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بے رحمانہ طریقے سے اسرائیلی فوج نے 10سالہ فلسطینی بچے کوکیا قتل 

بے رحمانہ طریقے سے اسرائیلی فوج نے 10سالہ فلسطینی بچے کوکیا قتل 

Fri, 22 Jul 2016 19:39:08    S.O. News Service

رملہ22جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)فلسطین میں فیلڈ میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے ایک گروپ نے اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینی بچے محی الدین الطباخی کے قتل کی تحقیقات کے دوران بتایا ہے کہ الطباکو نہایت بے رحمانہ طریقے سے قتل کیاگیا۔انسانی حقوق کی ٹیم کا کہنا ہے کہ منگل 19جولائی 2016ء شام ساڑھے چھ بجے اسرائیلی فوجیوں نے شمالی بیت المقدس میں الرام کے مقام پر 10 سالہ محی الدین محمد صدقی صادق طباخی کو سیاہ رنگ کی مسام دار پلاسٹک کے خول میں لپٹی گولی سے تاک کر نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں طباخی شدید زخمی ہوگیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی بچے کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فوجی الرام قصبے کو بیت المقدس سے الگ کرنے والی دیوار فاصل کے قریب کھڑے تھے۔ حملہ آور فوجی بارڈر پولیس کے اہلکاروں پرمشتمل تھے۔ انہوں نے ننھے محی الدین البطاخی کے سینے پر نشانہ بنا کر گولی ماری جس کیےنتیجے میں بچہ شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدید فائرنگ کی آوازیں سنیں اور ایسے لگا کہ اسرائیلی فوج نے کلاشنکوف سے گولیاں برسائی ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جن بچوں پر گولیاں چلائی گئی تھیں اس میں کل پانچ بچے تھے جن میں سے بڑے کی عمر 15 سال تھی۔ یہ پانچوں بچے اسرائیل کی تعمیر کردہ یہودی نسلی دیوار کے قریب کھیل رہے تھے تاہم صہیونی حکام کا دعویٰ ہے کہ جن بچوں کو نشانہ بنایا گیا وہ یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں پر سنگ باری کررہے تھے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ الرام قصبے کے شہریوں پر اسرائیلی فوج اسی طرح کی مسام دار سیاہ رنگ کی دھاتی گولیوں کا استعمال کرتی رہی ہے۔ فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے صہیونی فوج کے ہاتھ میں یہ ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ فلسطینی بچوں اور نہتے مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ بھی معمول کا حصہ ہوتی ہے۔ اس کے علاہ پیپر کے بدبودار پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دس سالہ محی الدین الطباخی کو تین سے چار پیادہ فورس سے وابستہ صہیونی فوجیوں نے نشانہ بنایا۔ نیز اس بچہ کو صرف ایک مسام دار گولی نہیں ماری گئی بلکہ اسے کئی گولیاں ماری گئی تھیں۔ایک عینی شاہدنے بتایا کہ محی الدین الطباخی کو 30 فٹ کے فاصلے سیگولیاں ماری گئیں جو صہیونی فوج کی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


Share: